جموں میں نیشنل کانفرنس کا اجتماع

عوام اتحاد برائے گپکار اعلامیہ تینوں خطوں کی مشترکہ جدوجہدکا پلیٹ فارم: ڈاکٹر فاروق عبداللہ


کشمیر نیوز سروس

جموں وکشمیر کے حقوق کی بحالی کیلئے لڑنے کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں: عمر عبداللہ
جموں6،نومبر کے این ایس عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کے لوگوں کی جدوجہد کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور 5گست2019کے فیصلوں کیخلاف جدوجہد میں جموں، کشمیر اور لداخ الگ الگ نہیں ۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعہ کو شیر کشمیر بھون جموں میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کے این ایس کے مطابق اس موقعے پر پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر دیوندر سنگھ رانا کے علاوہ پارٹی لیڈران اور عہدیداران بھی موجود تھے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ”ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ جموں الگ ہے، لداخ الگ ہے اور کشمیر الگ ہے بلکہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ سب کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور دفعہ370و 35اے کی بحالی ہمارے کلیدی مدعے ہیں اور جو کالے قوانین یہاں نافذ کئے گئے ہم اُ ن کی منسوخی چاہتے ہیں۔ جو لوگ سوچتے ہیں کہ اس لڑائی میں کشمیر، لداخ اور جموں الگ الگ ہیں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، تینوں خطوں کے عوام نے مرکزی حکومت کے فیصلوں کو مسترد کیا ہے اور تینوں خطے اپنے حقوق کی بحالی چاہتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کا ایجنڈا پورے ملک کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا ہے ، یہ نہ سمجھے کہ ہندوستان ان کا ہے، بہت ساری حکومتیں آئیں اور گئیں، جیسے آج ٹرمپ ہار کے ڈر سے تلملارہا ہے ویسے ان کا وقت بھی آئیگا۔ عوام کو بھاجپا کی چالوں سے ہوشیار کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ”آپس میں بھائی چارہ رکھو، یہ ہم کو بانٹنا چاہتے ہیں، یہ ہمیں آپس میں لڑا کر ہم پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، بھاجپا نے لوگوں کے جذبات کا بہت زیادہ استحصال کیا، یہاں کے لوگوں کو بولا گیا کہ دفعہ370ختم ہوتا تاہم زمین اور نوکریاں محفوظ رہیں گی لیکن بعد میں نہ صرف نوکریوں کیلئے پورے ملک کیلئے دروازے کھولے گئے بلکہ ہر کسی کو یہاں زمین خریدنے کا اہل بنایا گیا۔ کیا ہوا بھاجپا کے وعدوںکا؟ بھاجپا والوں نے کہا کہ دفعہ370ختم ہوگا اور جموں وکشمیر میں ترقی ہوگی۔ کہاں ہے ترقی؟ یہاں تو ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہیں۔ یہاں تو کورونا کے مریض وینٹی لیٹروں کی عدم دستیابی کے شکار ہے؟ بے روزگاری کو دور کرنے کے وعدے کئے گئے لیکن یہاں لوگ کا روزگار چھینا جارہا ہے؟ خصوصی پوزیشن کے خاتم کے 14ماہ میں بھاجپا نے یہاں کون سی ترقی کی؟“ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہاں تب ترقی ہوگی جب یہاں کے لوگوں کے حقوق بحال ہونگے اور جب یہاں کے لوگوں کی اپنی حکومت ہوگی۔ نیشنل کانفرنس تب تک آرام سے بیٹھے والی نہیں جب تک نہ یہاں کے لوگوں کے حقوق بحال نہیں کئے جاتے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ”جتنا پروپیگنڈا آج مرکزی حکومت کررہی ہے اُس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ جیسے ہی ہم دفعہ370کی بات کرتے ہیں تو ہمیں پاکستانی کہا جاتا ہے، ہمیں ملک دشمن کہا جاتا ہے، سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں پروپیگنڈا شروع ہوجاتا ہے۔ ارے جناب دفعہ370کا ذکر پاکستان کے آئین میں نہیں بلکہ ہندوستان کے آئین کا حصہ ہے تو پھر دفعہ370کی بات کرنا کہاں سے پاکستان کی بات ہوئی؟35اے کی بات کسی اور ملک کے آئین میں درج نہیں بلکہ یہ ہندوستان کے آئین میں درج ہے، یہی تو جموںوکشمیر اور یونین آف انڈیا کے درمیان رشتوں کی بنیاد بنی، اگر یہ بنیاد نہیں ڈالی گئی ہوتی تو یہ ڈھانچہ ہی نہیں بنا ہوتا۔“ انہوں نے کہا کہ دفعہ370کی بحالی کی جدوجہد کسی ایک مذہب، کسی ایک فرقے، کسی ایک علاقے، کسی ایک تنظیم یا کسی ایک خاندان کی لڑائی نہیں بلکہ یہ جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کی مشترکہ لڑائی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ”جموں کے لوگوں میں یہ ڈر پھیلایا گیا ہے کہ جو دفعہ370کی بات کریگا وہ پاکستانی اور ملک دشمن کہلائے جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے لوگ ہمیں فون کرکے، ہم سے ملاقات کرکے یہاں پھر دیگر ذرائع سے ہم تک یہ بات پہنچاتے ہیں کہ ”ہم ریاست کا بٹوارا نہیں چاہتے اور ہم خصوصی پوزیشن کی بحالی چاہتے ہیں لیکن ہم کھلے عام اس کا ذکر نہیں کرسکتے کیونکہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔“ ہم اُن سے کہتے ہیں کہ آپ نے دبے الفاظ میں ہم تک یہ بات پہنچائی اب ہم آپ کی آواز بن کر آپ کے حقوق کے لئے لڑیں گے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اس لڑائی میں کچھ کھلے عام ہمارا ساتھ دیں گے اور کچھ ہمارے پیچھے کھڑے ہونگے۔“این سی نائب صدر نے کہا کہ اپنے حقوق کی بحالی کیلئے لڑنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اگر ہمارے زمینیں ہمارے نہیں رہیں ، ہمارے روزگار کے مواقع ہمارے نہیں رہے تو ہم اپنے آنے والی نسلوں کیلئے کیا چھوڑ کر جائیں گے؟۔ انہوں نے کہا کہ تینوں خطوں کے لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہوگئی ہے کہ بھاجپا کے اصل مذموم ارادے کیا ہیں؟انہوں نے کہا کہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ تینوں خطوں کے لوگوں کے حقوق کی بحالی کیلئے جدوجہد کا واحد اور مشترکہ پلیٹ فارم ہے ، مجھے اُمید ہے کہ ہم اس جدوجہد میں سروخ رو ہوکر اُبھریں گے۔ اجلاس میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے علاوہ سینئر پارٹی لٰڈران سرجیت سنگھ سلاتیہ، اجھے سدھوترا، جاوید رانا، مشتاق بخاری، اعجاز جان، وپن پال، باغ حسنین راٹھور، رتن لعل گپتا، کشمیرا سنگھ، ستونت کور ڈوگرا، بملا لوترا، سورن لتا، عبدالغنی ملک، اسلم خان، چودھری ہارون، غنی تیلی، ضلع صدور صاحبان، یوتھ صوبائی کمیٹی و ضلع صدور، وومنز ونگ، ایس ٹی و اوبی سی ونگوں کے عہدیداران بھی موجود تھے۔