عید میلادالنبیﷺ کی اختتامی تقاریب وادی بھر میں

حضرت بل میں عظیم اجتماع منعقد ،عقیدت مند موئے مقدس (ص) کے دیدارسے فیضاب


کشمیر نیوز سروس

سرینگر6،نومبر کے این ایس عید میلادالنبی کی اختتامی تقریبات جمعہ کو وادی بھر میں عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئیں۔اس سلسلے کی سب سے بڑی تقریب آثار شریف درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوئی جہاں زائرین کی ایک بڑی تعداد نے کووڈ۔19قواعد وضوابط کے تحت نما زجمعہ ادا کی اور بعد ازاں موئے مقدس ﷺ کے دیدار سے فیضیاب ہوئے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق عید میلادالنبی ﷺ کی اختتامی تقریبا ت کے سلسلے میں ہزاروں کی تعداد میں زائرین نے درگاہ حضرتبل کا رخ کیا، نماز جمعہ سے قبل ہی حضرتبل کا پورا علاقہ رُوح پرور درودحضور (ص) سے گونج رہا تھا۔ درگاہ شریف میںپرنمازجمعہ ٹھیک دو بجے ادا کی گئی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد عاشقان رسوؒ ﷺدیدار موئے مقدس سے فیضیاب ہوئے۔ اس موقعہ پردرگاہ میں درودو اذکار کی گونج میں خواتین سمیت زائرین نے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہاتھ پھیلا کربارگاہ الٰہی میں اپنے گناہوں کی مغفرت مانگی ۔زائرین نے نماز جمعہ کے بعد نماز عصر ، نماز مغرب اور نماز عشاءکے موقعہ پر بھی دیدار موئے مقدس (ﷺ)کا فیض حاصل کیا جبکہ اس دوران بھی درودحضور(ص) اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر سے پورا علاقہ فیوض و برکات سے فیضیاب ہوتا رہا۔ اس دوران مختلف علاقوں سے آنے والی گاڑیوں میں سوار فرزندان توحید بھی درود حضور (ص) کا ورد کرتے ہوئے حضرتبل پہنچے۔ دن بھردرگاہ حضرتبل اور اس کے گرد ونواح میں عاشقان رسول (ﷺ)کا اژدھام نظر آرہا تھا جبکہ لاتعداد زائرین اور عاشقان رسول (ص) کو سہولیات بہم رکھنے کیلئے صوبائی وضلع انتظامیہ اور وقف بورڈ کے ساتھ ساتھ کئی سرکاری محکموں اور نجی اداروں و تنظیموں نے بھی خصوصی انتظامات کئے تھے۔ ان روح پرور مجالس اور خصوصی دعائیہ تقریبات سے حضرت بل کی فضائیں درودواذکار سے معطر ہوتی رہیں۔ٹریفک پولیس نے حضرتبل پہنچنے والی اور وہاں سے واپس روانہ ہونے والی گاڑیوں کیلئے ایک روٹ پلان پہلے ہی مرتب کیا تھا۔ حضرتبل پہنچنے والی ہزاروں گاڑیوں کیلئے نگین اور یونیورسٹی احاطہ میں پارکنگ کے خصوصی انتظامات رکھے جانے کے باوجود بھی درگاہ آنے والی گاڑیوں اور ان میں سوار زائرین کو جگہ جگہ ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ زائرین کو سہولیات بہم رکھنے کیلئے صوبائی انتظامیہ اور وقف بورڈ کیساتھ ساتھ کئی سرکاری محکموں اور نجی اداروں و تنظیموں نے بھی خصوصی انتظامات کئے تھے۔اس دوران جناب صاحب صورہ،شہری کلاشپورہ،سید صاحب سونہ وار کے ساتھ ساتھ بارہمولہ،پنجورہ شوپیان،کھرم سرہامہ،سیر ہمدان،کعبہ مرگ اور دیگر کئی مقامات پرواقع زیار ت گاہوں،آستانوں اور مساجد میں بھی روح پرور تقاریب کا اہتمام ہوا۔ سرینگر شہر میں جناب صاحب صورہ ، شہری کلاش پورہ کے علاوہ آستان عالیہ سید صاحب سونہ وار میں بھی عید میلاد النبی (ص) کی مناسبت سے خصوصی اور روح پرور اجتماعات کا انعقاد کیا گیا اور ان اجتماعات میں بھی ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کر کے نبی آخر الزماں (ﷺ) کے تئیں اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔اسی طرح کی تقریبات وادی بھر میں منعقد کی گئیں۔
پانپور جھڑپ 24گھنٹے بعد اختتام پذیر
2جنگجو ،21سالہ نوجوان جاں بحق ،ایک جنگجو کی خود سپردگی ، ایک عام شہری زخمی
سرینگر6،نومبر کے این ایس میج پانپور میں جنگجوﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان ہوئی خونین معرکہ آرائی 24گھنٹوں کے بعد اختتام پذیر ہوئی ۔اس جھڑپ میں 2جنگجو اور21سالہ طالب علم جاں بحق اور ایک عام شہری زخمی ہوا جبکہ ایک جنگجو نے دوران جھڑپ خود سپردگی کی ۔کشمیر نیو ز سروس کے مطابق میج پانپور میں جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان جمعرات کی شام چھ بجے کے قریب اُس وقت جھڑپ شروع ہوئی ،جب علاقے میں فوج کی50آر آر ،ایس او جی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے تلاشی کارروائی کے دوران علاقے میں موجود جنگجوﺅں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی اور گرینیڈ داغے ۔عام شہری جاں بحق :گزشتہ رات ہی طرفن کے مابین گولیوں کے تبادلے میں 2عام شہری جنکی شناخت 21سالہ عابد حمید ولد عبدالحمید اور کفایت احمد ساکنان میج پانپور کے بطور ہوئی ،زخمی ہوئے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ زخمی دونوں شہریوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ۔جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات اسپتال میں عابد حمید زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔مذکورہ نوجوان طالب علم ہے اور یہ پڑھائی کیساتھ ساتھ دودھ کی سپلائی بھی کرتا ہے ۔نامہ نگار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتا یا کہ یہ نوجوان اپنی آٹو میں جارہا تھا ،جس دوران یہ جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے کی زد میں آکر زخمی ہوا تھا ۔ذرائع نے بتایا کہ تصادم کی جگہ پر جمعرات کی شام زخمی ہونے والے 2 عام شہریوں میں سے ایک سری نگر کے صدر ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ہے، وہیں کفایت احمد سری نگر کے برزلہ علاقے میں قائم ہڈیوں و جوڑوں کے ہسپتال میں زیر علاج ہے۔اس دوران علاقے میں موجود جنگجوﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان گزشتہ24گھنٹوں سے رُک رُک جاری گو لیوں کے تبادلے میں دو جنگجو جاں بحق ہوئے جبکہ ایک جنگجو نے خود سپردگی کی ۔جھڑپ:جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے میج پانپور میں جمعرات کی شام شروع ہونے والے مسلح تصادم میں ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں ایک نامعلوم جنگجو جاں بحق ہوا۔ جموں و کشمیر پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ایک مقامی جنگجو نے خود سپردگی اختیار کی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں جنگجوﺅں کے خلاف دن بھر جاری رہنے والے آپریشن کے دوران علاقے میں موجود تیسرے جنگجو اور فورسز کا دوبارہ آمنا سامنا ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ تیسرے جنگجو نے فورسز کو چکمہ دینے کے لئے گاﺅں میں موجود گھاس کے ڈھیر میں خود کو چھپا لیا تھا ۔ذرائع نے بتایا کہ جب فورسز نے گھاس کے ڈھیروں کو کھنگا لنا شروع کردیا ،تو یہاں موجود تیسرے جنگجو نے دوبارہ فائرنگ شروع کردی اور طرفین کے مابین دوبارہ گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں یہ جنگجو بھی جاں بحق کردیا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ میج پانپور کا آپریشن 24گھنٹے کے بعد ختم کردیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس آپریشن اور تصادم میں2جنگجو جاں بحق ہوئے ،جن میں ایک غیر مقامی اور ایک مقامی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ خود سپردگی کرنے والا جنگجو مقامی ہے ۔پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ جاں بحق جنگجو کئی جنگجویانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق جنگجوﺅں کو شمالی کشمیر میں مخصوص قبرستان میں سپرد خاک کیا جائیگا ۔ان کا کہناتھا کہ کووڈ ۔19پروٹوکول کے تحت مقامی جنگجو نوجوان کی آخری رسومات اہلخانہ کی موجودگی میں انجام دئے جائیں گے ۔
ہند ۔چین اور ہند ۔پاک سرحدی کشیدگی
جنگ خارج از امکان نہیں
ایل اے سی پر صورت حال کشیدہ لیکن ہم نہیں قبول کریں گے کوئی تبدیلی:جنرل بیپن راوت
سرینگر6،نومبر کے این ایس چین کیساتھ جنگ کو خار ج از امکان نہیں قرار دیتے ہوئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر صورت حال کشیدہ لیکن ہم کوئی تبدیلی قبول نہیں کریں گے ۔انہوںنے یہ بھی کہا کہ بالاکوٹ اور سرجیکل اسٹرائک سے ہم نے پاکستان کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہندستانی فوج کو اپنے ہتھیار اور دیگر ضروریات کے لئے کسی ایک ملک پر منحصر نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی فوجی ضرورتوں کے لئے مسلسل بندشوں کے خطرے سے باہر نکلنا ہو گا۔ سی ڈی ایس نے جمعہ کو نیشنل ڈیفنس کالج کے زیر اہتمام منعقد ڈائمنڈ جوبلی ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ اس دوران انہوں نے ایل اے سی کا بھی تذکرہ کیا۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا ’ مشرقی لداخ میں ہندستان اور چین کے درمیان لائن آف ایکچول کنٹرول پر صورت حال کشیدہ بنی ہوئی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ ہندستانی دستوں کی جوابی کارروائی کے پیش نظر چین کی” پیپلز لبریشن آرمی “(پی ایل اے )کو لداخ میں اپنی گستاخی کے لئے ’غیر متوقع نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑا۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے کہا’ہماری پوزیشن پر کوئی سوال نہیں ہے،ہم لائن آف ایکچول کنٹرول میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گے‘۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کیساتھ جنگ خارج ازمکان نہیں ہے ۔چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت پاکستان کیساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول پر جاری کشیدگی اور تناﺅ کے بارے میں کہا ’بالاکوٹ اور سرجیکل اسٹرائک سے ہم نے پاکستان کو ایک مضبوط پیغام دیا ہے‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین دہائیوں سے پاکستان کی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی جموں وکشمیر میں جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ اب تیزی سے سوشل میڈیا پر ہندستان مخالف بیان بازی شروع ہو رہی ہے اور ہندستان کے اندر سماجی بھید بھاﺅ پیدا کرنے کے لئے جھوٹی فرقہ وارانہ کہانیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔
جموں میں نیشنل کانفرنس کا اجتماع