’دفعہ370کی بحالی بڑی سیاسی جنگ‘

’جموں وکشمیر کو اپنا آئین اور جھنڈا واپس دینے تک کوئی اور جھنڈا نہیں اٹھاﺅں گی‘


کشمیر نیوز سروس

بھاجپا آئین ہند کو پارٹی منشور سے بدلنا چاہتی ہے ،مسئلہ کشمیر کے لئے نوجوانوں نے بہت قر بانیاں دیں ،اب لیڈران کی باری :محبوبہ مفتی
سرینگر23، اکتوبر کے این ایس پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) صدر اور جموں وکشمیر کی سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے دفعہ370کی بحالی کو سیاسی جنگ قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب تک جموں وکشمیر کو اپنا آئین اور جھنڈا واپس نہیں کیا جاتا تب تک وہ (محبوبہ مفتی) کسی اور آئین کے تحت نہ تو حلف اٹھائیں گی اور نہ ہی کوئی اورجھنڈا ہاتھ میں لیں گی ۔انہوں نے مرکزی حکومت کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے تلخ انداز میں کہا کہ مسئلہ کشمیر ہے جسے حل کرنے کے لئے نوجوانوں نے بہت قربانیاں دیں اور اب لیڈران کا خون بہانے کا وقت آگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال2016میںسید علی گیلانی کی جانب سے در وازہ بند رکھنا بڑی غلطی تھی جبکہ یہ عمل جموں وکشمیر کے لئے بہت بڑا نقصان ثابت ہوا ۔مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ بھارتیہ جنتاپارٹی آئین ہند کو پارٹی منشور سے بدلنا چاہتی ہے جبکہ نریندر مودی کو ووٹ حاصل کرنے کے لئے دفعہ370کا سہا را لینا پڑتا ہے کیوں کہ اُنکے پاس کار کردگی کے حوالے سے کچھ بھی دکھا نے کے لئے نہیں ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو اپنی سرکاری رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پررہائی کے بعد پہلی مرتبہ پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت کے پاس اپنی کار کردگی دکھا نے کے لئے کچھ نہیں ہے ،اس لئے نریندر مودی کو ووٹ حاصل کرنے کے لئے یہ کہنا پڑتا ہے ہم نے دفعہ370کو ختم کیا اور اب لوگ جموں وکشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت ملکی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ،اس لئے ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح بنگلہ دیش سے بھی پیچھے ہے ۔ان کا کہناتھا کہ یہ حقیقت ہے کہ چین نے1000مربع کلو میٹر ہماری زمین پر قبضہ کیا ،میرے خیال سے ہم کسی طرح 40کلو میٹر واپس لینے میں کامیاب رہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا’ چین بھی کہتا ہے کہ یہ متنازعہ ہے ،کیوں جموں وکشمیر کویوٹی میں تبدیل کیا ؟جموں وکشمیر اس سے قبل کبھی بھی اتنی بین الا قوامی توجہ حاصل نہیں کر سکا ،جتنا دفعہ370کی تنسیخ کے بعد اسے حاصل ہوئی ‘۔محبوبہ مفتی نے دفعہ370کے خاتمے ،نیاڈو میسائل قانون لاگو کرنے اور مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر سے متعلق دیگر فیصلہ جات کو آئین ہند کے منافی قرار دیا ۔جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ آئین ہند کی دھجیاں اڑاکر کیا گیا ،کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ دفعہ370کو ہم سے چھین سکے،یہ حق صرف اور صرف جموں وکشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے پاس محفوظ ہے۔ ‘ محبوبہ مفتی نے کہا ’میں کہنا چاہتی ہوں کہ ہم سے جو کچھ بھی چھینا گیا ،وہ ڈاکہ زنی اور چوری ہے ‘۔انہوں نے کہا ’چور کتنا ہی طاقت ور اورخونخوار و بڑا کیوں نہ ہو اُسے ایک نہ ایک دن لوٹی ہوئی چیز واپس لوٹانی پڑتی ہے اور ہم سے جو لوٹا گیا ،اُسے واپس لوٹا نا ہوگا ‘۔جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے کہا ’میں جانتی ہوں لوگ سکتے میں ہیں ،نا امیدی ہر طرف ہے ،لیکن اپنے لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ ہم سے جو چھینا گیا ہم اُسے حاصل کرکے ہی لیں گے ‘۔ان کا کہناتھا ’سیاسی محاذ کیساتھ ساتھ عوام کو بھی اکھٹا ہونا پڑے گا ،کیوں کہ یہ بہت بڑی اور مشکل جنگ ہے اور ہم تب ہی فتح یاب ہوں گے جب ہم متحدد رہیں گے ‘۔انہوں نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ’بھاجپا کی سربراہی والی مرکزی سرکار نے یہاں کی مین اسٹریم سیاسی لیڈران کو دل شکستہ کرنے کی پوری پوری کوشش کی ،لیکن وہ ناکام رہے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مودی حکومت نے آئین ہند کو تباہ (مسمار)کیا اور اسے(آئین ہندکو) اپنے پارٹی منشور سے بدلنا چاہتی ہے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ’ہماری لڑائی دفعہ370کی بحالی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھی جدوجہد کریں گے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ’میں دلی دربار سے مخاطب ہوں ،مسئلہ کشمیر ہے ،یہ حقیقت ہے ،آپ آنکھیں بند کرکے کبوتر کی طرح بیٹھ نہیں سکتے ،اگر آپ نے آنکھیں بندکیں تو بلی آپ کو کھا جائے گی ‘۔ان کا کہناتھا ’پی ڈی پی کا نظر یہ کہ کشمیر سارک ممالک کے درمیان ایک پل بننے ،یہ امن پل ہو ،اس کے لئے مذاکرات لازمی ہے ‘۔انہوں نے کہا ’ایک طرف چین سرحد پر کھڑا ،دوسری جانب پاکستان کیساتھ دھکم دھکا ہوتی رہتی ہے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ’یہ لوگ ہمیں الجھا کر رکھنا چاہتے ہیں ،دفعہ370بحالی میں ،اسٹیٹ ہڈ اور دیگر معاملات میں ،لیکن میں کہنا چاہتی ہوں ہم الجھیں گے نہیں ،مسئلہ کشمیر ہے اور اس مسئلے کے حل کے لئے ہزاروں نوجوانوں نے قر بانیاں دیں ،ہم نوجوانوں کی قربانیوں کو رائیگان نہیں ہونے دیں بلکہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں اب ہم جیسے لیڈران کے خون بہانے کی باری آگئی ہے ‘۔ ان کا کہناتھا ’ان کا جموں وکشمیر کے عوام کیساتھ ساتھ کوئی لینا دینا نہیں،اُنکے لئے یہاں کے لوگ غیر ضرروی ہے ،وہ یہاں کی زمین چاہتے ہیں ،یہاں کے وسائل چاہتے ہیں ،پانی پہلے ہی لے چکے ہیں اور اب ریت بھی لے گئے ‘۔ان کا کہناتھا کہ5اگست2019سے قبل ہندوستان کے پاس جائز طریقے یہاں کی زمین ہے ،لیکن اب یہ ہندوستان کے پاس ناجائز طریقے سے ہے ۔ان کا کہناتھا ’ہم نے سیکو لر ،جمہوری ہندوستان کیساتھ الحاق کیا ہے ،ہم نے موجودہ ہندوستان کیساتھ نہیں ہیں ،معاف کیجئے ہم ((Comfortableنہیں ہیں ‘۔ان کا کہناتھا ’بھاجپا ہندوستان کے آئین کو پارٹی منشور کیساتھ بدلنا چاہتی ہے ‘۔محبوبہ مفتی نے کہا ’لوگوں کو اس عظیم جنگ میں متحدد ہونا پڑے گا اور اُنہیں سیاسی محاذ کو اپنا تعاﺅن دینا ہوگا ‘۔کئی سوالات کے جوابات میں محبوبہ مفتی نے کہا ’جب تک جموں وکشمیر کو اپنا آئین اور جھنڈا واپس نہیں کیا جاتا تب میں کوئی جھنڈا اپنے ہاتھ میں نہیں اٹھاﺅں گی ‘۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’یوٹی ہو یا اسٹیٹ محبوبہ مفتی کی ذات کے لئے الیکشن کوئی معنیٰ نہیں رکھتے ‘۔تاہم بی ڈی سی انتخابات کے بارے میں پوچھ گئے سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا ’اس کا فیصلہ سیاسی اتحاد ہی لے گا کیوں کہ یہ میری ذات کا مسئلہ نہیں ،لیکن جہاں تک میری ذات کا مسئلہ ہے ،میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ یوٹی ہو یا اسٹیٹ جب تک ہمیں اپنا آئین اور جھنڈا واپس نہیں دیا جاتا تب میں نہ تو کوئی اورجھنڈا اٹھاﺅں گی اور نہ حلف لوں گی ‘۔سید علی گیلانی کی جانب سے مرکزی سیاسی وفد کو سال2016میں در وازے نہ کھولنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا ’میں نے اُس وقت بھی کہا آج بھی کہتی ہوں گیلانی صاحب نے بڑی غلطی جس کی وجہ سے جموں وکشمیر کو بڑا نقصان ہوا ‘۔ انہوں نے کہا ’گیلانی صاحب کا دروازہ بند رکھنا جموں وکشمیر کے لئے بڑا نقصان ثابت ہوا ‘۔پریس کانفرنس کی خاص یہ تھی کہ پارٹی جھنڈے کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے قومی جھنڈے کو بھی ٹیبل پر سجایا گیا ،پریس کانفرنس میں عبدالرحمان ویری ،غلام نبی لون ہانجورہ ،ڈاکٹر محبوب بیف اور سہیل بخاری بھی موجود تھے  


متعلقہ خبریں صفہ اول