ہند ۔چین سرحدی تعطل

فوجیں دونوں طرف سے ہٹائی جانی چاہئیں:بھارت


کشمیر نیوز سروس

سرینگر17، اکتوبر کے این ایس ہند وستان اور چین کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی وتناﺅ کے بیچ بھارت نے دوٹوک الفاظ میں واضح فوجیں دونوں طرف سے ہٹائی جانی چاہئیں جبکہ کوئی بھی کارروائی یکطرفہ نہیں ہو گی۔کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر پچھلے 6مہینے سے ہندستان اور چین کے درمیان جاری تعطل کو ختم کرنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان فوجی سطح پر مذکرات کے کئی ادوار ہوئے ،لیکن ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے حال ہی میں ہوئی ایک بات چیت کے دوارن یہ شرط رکھی تھی کہ ہندستانی فوج پینگونگ جھیل کے جنوبی علاقے سے فوج ہٹائے جس پر ہندستان کی طرف سے واضح جواب دیا گیا ہے کہ فوجیں دونوں طرف سے ہٹائی جانی چاہئیں اورکوئی بھی کارروائی یکطرفہ نہیں ہو گی۔انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندستان نے چینی کارروائی کا جواب دینے کے لئے سات جگہوں پر ایل اے سی پار کر لیا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ’ ہم نے سات جگہوں پر ایل اے سی پار کیا ہے۔ کیا اب بھی آپ کو لگ رہا ہے کہ چین بات چیت کرنا چاہتا ہے؟ حال ہی میں ہوئی ایک بات چیت میں چین نے کہا تھا کہ ہندستان پہلے جنوبی علاقے سے فوج ہٹائے جس پر ہماری طرف سے واضح مانگ کی گئی کہ جھیل کے دونوں کناروں سے دونوں ملکوں کے فوجی ہٹیں گے‘۔کن جگہوں پر ہے قبضہ؟:دراصل، اگست میں ہندستانی فوجی چشول کے سب سیکٹر میں اپنی گشت والی جگہوں سے آگے چلے گئے۔ اب اس علاقے میں ہندستان کا دباو ہے۔ یہاں سے نہ صرف ہندستان کی نظر اسپانگر گیپ بلکہ مولدو میں چین کی ٹکڑی کی بھی موومنٹ وہاں سے دیکھی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ اب تک ہندستان اور چین کے درمیان سات دور کی بات چیت ہو چکی ہے۔ سفارتی سطح پر بھی ہندستان چین کے رخ کو لے کر چوکنا ہے۔ ماسکو میں ہندستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہوئی میٹنگ کے بعد بھی ایل اے سی پر چین اپنے رخ سے پیچھے نہیں ہٹا۔